دست ستم
معنی
١ - ظلم، زیادتی۔ "شاہ عالم شہنشاہ دہلی کی آنکھیں نکالے جانے اور . ہمہ قسم کی اذیتیں اٹھانے کے بعد . ١٨٠٣ء تک مرہٹوں کے دست ستم کا آماجگاہ بنا رہے۔" ( ١٩١٩ء، غدر دہلی کے افسانے، ٩٦:٤ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'دست' کے بعد کسرۂ اضافت لگا کر فارسی ہی سے ماخوذ اسم 'ستم' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٩١٩ء سے "غدر دہلی کے افسانے" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - ظلم، زیادتی۔ "شاہ عالم شہنشاہ دہلی کی آنکھیں نکالے جانے اور . ہمہ قسم کی اذیتیں اٹھانے کے بعد . ١٨٠٣ء تک مرہٹوں کے دست ستم کا آماجگاہ بنا رہے۔" ( ١٩١٩ء، غدر دہلی کے افسانے، ٩٦:٤ )